ابنا: ترجمان وزارت خارجہ سيد عباس عراقچي نے حاليہ دنوں ميں دسيوں مصري شہريوں کي ہلاکت پر افسوس ظاہر کرتے ہوئے تمام فريقوں سے صبر و تحمل سے کام لينے اور تشدد سے بچنے کي اپيل کي ہے –
انہوں نے کہا کہ بلا شبہ مصري عوام ، اپنے انقلاب کو منحرف کرنے کي سازشوں کي جانب سے باخبر ہيں اور ان حساس حالات ميں دور انديشي کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنے انقلابي مقاصد کي ناکامي کا سد باب کريں گے –وزارت خارجہ کے ترجمان نے ، اس بحران کے نتائج پر گہري تشويش ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ہم مصر کے تمام اداروں ، تنظيموں اور قومي و اسلامي شخصيتوں سے اپيل کرتے ہيں کہ وہ قومي اتحاد ، عوام کے بنيادي حقوق اور جمہوري اصولوں کي پاسداري کرتے ہوئے ، قومي مذاکرات اور مہذب سماج کي تشکيل کے مقدمات فراہم کريں –در ايں اثنا اخوان المسلمين نے ہفتے کي شب بتايا ہے کہ معزول صدر محمدمرسي کے دو سو حامي ، فوجيوں کي پر تشدد کارروائي ميں ہلاک ہو گئے ہيں –مصر ميں يہ تشدد ايسے عالم ميں جاري ہے کہ جب ، اخوان المسلمين اور ديگر اسلامي تنظيموں کو مظاہرے ختم کرنے کے لئے فوج کي جانب سے دي گئ اڑتاليس گھنٹوں کي مہلت ختم ہو گئ ہے –محمد مرسي کو تين جولائي کو فوج نے بر طرف کر ديا تھا اور اخوان المسلمين اور اس کے حامي اسے فوجي بغاوت قرار ديتے ہيں –
.......
/169